Land of dreams Bhera, District Sargodha, punjab Pakistan

Friday, August 25, 2017

سرگودھا کی تاریخ History of Sargodha

سرگودھا شہر کی بنیاد ایک انگریز خاتون لیڈی ٹروپر نے 1903 میں رکھی سرگودھا شہر پاکستان کا پہلا شہر ہے جس کو ماسٹر پلان کے تحت آباد کیا گیا اس کے بعد فیصل آباد اور اسلام آباد دو شہر مزید ماسٹر پلان کے تحت آباد ہوے- 1860 کی بات ہے جہاں آج کل گول مسجد ہے وہاں ایک تالاب ہوتا تھا اور تالاب کو فارسی زبان میں سر کہتے ہیں اس گول تالاب کا مالک ایک ہندو سادھو تھا جس کا نام گودھا تھا اس وجہ سے اس نوآباد شہر کا نام سرگودھا رکھا گیا- پاکستان بننے کے بعد بھی اس جگہ کو گول کھوہ کہا جاتا رہا اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر بہت جلد آبادی بڑھتی گئی اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر بہت جلد آبادی بڑھتی گئی اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریز حکومت نے یہاں پر ایک عسکری سطح کا ایئر پورٹ بنایا ایک فوجی چھاؤنی تعمیر کی 1949 میں اسکو تحصیل کا درجہ دیا گیا جو ترقی کرتے کرتے بعد میں ضلع اور پھر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنا تقسیم پاکستان کے وقت قانون ساز اسمبلی کی ایک نشست تھی جو مسلم لیگ کے امیدوار نواب سر محمد حیات قریشی نے جیتی تقسیم کے وقت یہ علاقہ مسلم لیگ کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا 1946 کے انتخابات میں بابائے قوم نے 2 دفعہ سرگودھا کا دورہ کیا-
اہل سرگودھا کی آمدنی کا زیادہ انحصار زرعی پیداوار پر ہے کنو، سنگترہ، مسمی، فروٹر، بلڈ مالٹا، ریڈ بلڈ مالٹا اور گریپ فروٹ کی پیداوار میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے چاول کی پیداوار میں 11واں جبکہ گنے کی پیداوار میں دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے-    دیگر زرعی اجناس میں گندم چنا جو باجرہ مکئی سبزیاں امرود جامن آم بھی بکثرت کاشت کئے جاتے ہیں مچھلی فارم گائےبکریوں اور بھینسوں کے فارم کے علاوہ کبوتر اور موروں کی افزائش نسل کیلئے الگ فارم ہیں دو انڈسٹریل ایریا ہیں سلانوالی میں لکڑی کا بہت عمدہ کام ہوتا ہے جسکو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اپنی زرعی پیداوار کی وجہ سے سرگودھا کو کیلی فورنیا آف پاکستان کہا جاتا نے میڈیا کی دنیا میں سرگودھا سے 9 مقامی اخبار 3 قومی اخبار 2 ریڈیو چینل 93 اور ایف ایم 96 تین ٹی وی چینل انڈس نیوز دھوم ٹی وی اور رائل نیوز 5 ماہنامہ رسالے مزید 10 پرائیویٹ ریڈیو چینل بھی کام کرتے ہیں تعلیمی میدان میں ایک یونیورسٹی 1 میڈیکل کالج 1 لاء کالج تین ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور عمومی تعلیم کے لیے 16 کالج 5 کامرس کالج ایک پی ایف کالج 31 سے زائد پبلک کالج دارارقم سکول اینڈ کالج کا ہیڈ کوارٹر ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگ 68 فیصد جبکہ سرگودھا کا لٹریسی ریٹ 80 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے صحت کے میدان میں بھی اللہ کے فضل سے کسی سے پیچھے نہیں ہیں سینکڑوں سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتال 2 ٹراما سنٹر شوکت خانم اور آغا خان کے کولیکشن سنٹر بھی کام کر رہے ہیں-
شہر کی بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ بازاروں میں ہر چیز کے بازار الگ الگ ہیں مثلا کپڑے کتابیں جوتے برتن زیورات رنگ روغن لکڑی سبزی فروٹ اور لوہے کے سامان کی مارکیٹیں الگ الگ ہیں، دینی تعلیم کیلئے بیشمار مدارس موجود ہیں پاک فوج کی ایک چھاؤنی ایک ٹریننگ سنٹر ایک ریماؤنٹ ڈپو پی اے ایف کا عالمی شہرت یافتہ مصحف میر بیس کرکٹ کا ایک انٹر نیشنل سٹیڈیم بھی موجود ہے اہل سرگودھا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 1965 کی جنگ میں دشمن کی فضائیہ کے حملوں میں افواج پاکستان کا ساتھ دینے پر نشان استقلال اور صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا پاکستان میں یہ اعزاز سرگودھا سیالکوٹ اور لاہور کے علاوہ کسی شہر کو حاصل نہیں- 1965 کی پاک بھارت جنگ میں شاندار کردار اور پاک فوج سے محبت کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ چوکوں کے اکثر نام عسکری ہیں جیسے شاہین چوک غوری چوک بم چوک ٹینک چوک اور توپ چوک وغیرہ، دنیا کا خوفناک جرنیل جس کی قابلیت کو پوری دنیا کے عسکری ماہرین تسلیم کرتے ہیں یعنی جنرل حمید گل کا تعلق بھی سرگودھا سے ہے 65 کی جنگ میں دنیا کا حیرت انگیزمعرکہ جس میں پاکستان کے ایک ہوا باز ایم ایم عالم نے صرف 34 سیکنڈ میں انڈیا کے 5 جہازوں کو ٹکڑوں اور شعلوں میں تبدیل کیا وہ تاریخی معرکہ بھی سرگودھا کی سرزمین پر لڑا گیا روس افغان وار کے اہم کردار جنرل غلام محمد کنڈان کا تعلق بھی سرگودھا سے ہے ضلع سرگودھا میں7 تحصیلیں 59 ٹاؤن کمیٹی 161 یونین کونسلیں ہیں. ضلع سرگودھا کی آبادی 1998 کی مردم شماری کے مطابق2665979 جبکہ شہر سرگودھا کی آبادی 458440 افراد پہ مشتمل ہے آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 11واں بڑا شہر ہے جو کہ فیصل آباد سے 94 لاہور سے 172 جبکہ موٹر وے سے 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. کل رقبہ 5884 مربع کلومیٹر ہے، دریائے جہلم اور چناب کے درمیان ایک خوبصورت شہر ہے ایک چھوٹا سا پہاڑی سلسلہ کرانہ بار جو اپنے کرش کے معیار کی وجہ سے پنجاب بھر میں مشہور ہے 90% لوگوں کی زبان پنجابی 10% اردو جبکہ ہندکو پشتو پوٹھوہاری کشمیری سرائیکی بولنے والے بھی موجود ہیں یہاں پر ایک زرعی کالج اور بہترین نہری نظام ہے. ضلع میں قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی 10 نشستیں ہیں. موٹر وے کی 5 انٹر چینجز ضلع بھر کو لنک کرتی ہیں
 سرگودھا کی چند اہم شخصیات
ملنگی
اصل نام احمد خان تھا انگریز حکومت میں حریت پسندوں کی قیادت کی اور لگاتار 26 سال تک انگریز حکومت کا امن حرام کیے رکھا آپکا یہ نعرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ "دن نوں راج فرنگی دا تے رات نوں راج ملنگی دا
فتح خان بلوچ
آپ انگریز حکومت کے دوران شاہپور ساہیوال اور خوشاب کے علاقے پر مشتمل ایک آزاد ریاست کے حکمران تھے آپ کی زندگی میں انگریز اس خطے پر قابض نہیں ہو سکا-
مفتی محمد شفیع صاحب سراج العلوم
آپ سرگودھا کی سرزمین پر آزاد وطن اور مسلم لیگ کی پہلی آواز تھے انتہائی نڈر اور بیباک راہنما تھے
خواجہ ضیاءالدین سیالوی
آپ کی انگریز حکومت کی مخالفت اور آزادی کی جدوجہد تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے آپ انگریز کے باغی تصور کیے جاتے تھے آپ نے تحریک ترک موالات تحریک خلافت میں بھر پور کردار ادا کیا
خواجہ قمرالدین سیالوی
آپ نے تحریک پاکستان میں بہت اہم کردار ادا کیا آپ مسلم لیگ کے صوبائی راہنما تھے آپ نے آزادی کے بعد تحریک ختم نبوت تحریک نظام مصطفی میں قائدانہ کردار ادا کیا
ملک فیروز خان نون
آپ اپنے دور کے انتہائی اعلی تعلیم یافتہ تھے انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن آپ کے تدبر اور سیاست کا معترف تھا آپ متحدہ ہندوستان کے آخری وزیر دفاع تھے آزادی کے کچھ عرصہ بعد آپ پاکستان کے صدر بھی رہے
ملک خضر حیات ٹوانہ
آپ مشہور کانگریسی لیڈر تھے آپ متحدہ پنجاب کے آخری وزیر اعلی تھے
سر نواب محمد حیات قریشی
آپ تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے آپ کی انتھک محنت سے شاہپور خوشاب اور سرگودھا میں مسلم لیگ کو پذیرائی ملی
محمد حسین مرولوی
آپ سیال شریف کے مرید اور خلیفہ تھے آپ نے گاؤں گاؤں پھر کر مسلم لیگ کیلئے راہ ہموار کی
مولانا ظہور حسین بگوی
آپ خواجہ ضیاءالدین سیالوی کے نامور خلیفہ تھے آپ اپنے دور میں انگریز حکومت کے باغی کہلاتے تھے آپ نے آزادی کیلئے پورے ہندوستان کا دورہ کیا
مولانا نقشبند صاحب
آپ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ تھے آپ کی محنت سے شاہپور کے علاقے میں قائد اعظم محمد علی جناح کے جلسے کا کامیاب انعقاد ممکن ہوا
دیگر نامور شخصیات
پیر امیر محمد بھیروی، مولانا محمد حسین نیلوی، پیر کرم شاہ صاحب ازھری، ڈاکٹر انوار احمد بگوی، سید حامد علی شاہ، مولانا ثناءاللہ امرتسری، علامہ عطاءاللہ بندیالوی، مولانا عبدالشکور ترمذی، مولانا اکرم طوفانی، سید سبطین نقوی
نامور شعرا
منیر نیازی، وسعی شاہ، ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد، شاکر کنڈان، محمد حیات بھٹی، غلام محمد درد، قاسم شاہ، افضل عاجز،احمد ندیم قاسمی اور ھارون الرشید تبسم وغیرہ
کھیل اور کھلاڑی.
کرکٹ مین محمد حفیظ اعزاز چیمہ ،  نوید لطیف اور ہاکی کے کھلاڑی شبیر احمد
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
ڈاکٹر لمعات احمد بگوی، ڈاکٹر عطاء الرحمان، ڈاکٹر شاہد اقبال، ڈاکٹر عامر علی



No comments:

Post a Comment